Breaking news

الیکشن کب ہونگے۔

 


آج سپریم کورٹ میں  الیکشن کمیشن نے 11 فروری کی تاریخ بتائی کہ اس پر الیکشن کروا دیں گے  اور صدر مملکت سے مشاورت بھی  کریں گے تاریخ کے حوالے سے  سپریم کورٹ کی آج کی سماعت  حکومت کو اور الیکشن کمیشن کو گلے پڑ گئ ہے اور حالات الیکشن کی طرف جاتے   دکھائی دے رہے ہیں  اگر پس پردہ قوتوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انتخابات ہونے چاہیے  تو  آنے والے دنوں میں  عمران خان کو نا اہل کرنے کے لئیے  کیسز میں  تیزی آنے کا قوی امکان ہے۔


نوازشریف صاحب لندن سے صرف ایک ڈیل کے ساتھ واپس آئے ہیں  اور وہ ہے مائنس عمران خان  اگر انکو  ذرا بھی  شک ہوگیا کہ عمران خان الیکشن میں  موجود ہونگے حصہ لیں گے یقین جانے  نوازشریف صاحب  کی پلیٹیں گر جائیں گی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوجائے گی  اور  پریگنٹ ہونے کے علاوہ ہر بیماری کی علامات نظر آئیں گی ۔


بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ شاید  شرائط کے ساتھ  تحریک انصاف کو محدود دائرے میں  انتخابات لڑنے کی اجازت مل جائے  مگر ابھی تک اس منظر میں  عمران خان نظر نہیں آرہے ہیں  اگر عمران خان کی انٹری ہوگئی تو بہت کچھ  بدل جائے گا  تین مہینے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ مائنس عمران خان فارمولا  نافذ کیا جائے  اور اسکے لئیے  ہر حد تک جایا جائے گا  آنے والے دنوں میں  جہاں سیاسی ہلچل نمایاں ہوگی وہیں  غیر متوقع حادثات و واقعات ییش آ سکتے ہجو سارا منظر نامہ یکسر بدل سکتے ہیں


آگر میاں نوازشریف  سمیت انکے کسی بھی حمایتی کو یہ لگتا ہے کہ  وہ دو تہائی اکثریت حاص کریں گے ہر جگہ  کلین سوئپ کریں گے یقین کریں ایسا کچھ نہیں  ہونے جارہا  وہی معلق پارلیمنٹ  وہی اتحادی حکومتیں وہی یلانٹڈ  آزاد امیدوار چھوٹی جماعتیں  جو تحریک عدم اعتماد کے وقت گیم چینجر کا کردار  ادا کرتی ہیں  


مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب  اور اسکرپٹ رائٹر دونوں بلا کے انا پرست ہیں  اور کوئی  جھکنے کو  یا  پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے ایک کے پاس عوامی قوت ہے اور دوسرے کے پاس   ریاستی طاقت  اور بظاہر عن دونوں کے ایک پیج پر آنے کے کوئی  امکانات نہیں  ہیں  اگر خان صاحب کو  نا اہل قرار دے کر انتخابات سے باہ رکھا گیا تو انکے حامیوں میں  مزید  فرسٹریشن پیدا ہوگی اور اب کی بار اسکا مرکز پنجاب ہوگا  کیونکہ سندھ  بلوچستان  اور خیبرپختونخوا اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا رول پلے کر چکے ہیں  اور اب یہ کردار پنجاب کے حصے میں  آرہا  ہے جو معنی خیز اور حیرت انگیز پریکٹس ہے۔


ابھی  تک بہت سی چیزیں مبہم ہیں دھند چھائ ہوئی ہے الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہوجائے  خان  صاحب  کی پوزیشن کلئیر ہیں جائے   پھر سب کو اپنا میدان سجانے میں  آسانی ہوگی اب آزادی کتنی ہوگی اس پر ابھی بات کرنا قبل از وقت ہوگا 


کچھ لوگوں کی خواہش کے بر عکس الیکشن  ہونا  یقینی  ہوتا جارہا ہے مگر  کوئ تدبیر  بنا بنایا کھیل بگاڑ سکتی ہے  اور عنقریب تدبیر کے خدوخال بھی  واضح ہونا شروع ہوجائیں گے


بس انتخابات میں  عوام کی نمائندگی یقینی ہوجائے  اور یہ یوم بریانی یا یوم ہونڈا تک محدود نہ رہیں  ووٹ کو عزت ملے نہ ملے ووٹر کو عزت مل جائے  تو یہی بڑی تبدیلی اور انقلاب کی جانب پہلا قدم ہوگا


محمد علی خان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے