Breaking news

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور پاکستان کا رد عمل۔

 

ایک فلسطینی تنظیم کی طرف سے اسرائیلی حدود میں  بڑے حملے کیئے گئے ہیں  سینکڑوں ہلاکتیں دونوں جانب ہو چکی ہیں  اسرائیل کے وزیراعظم نے خود کو حالت جنگ  میں  قرار دیا ہے  فلسطینی تنظیم کا حملہ بائ پلان یا بائ ڈیزائن تھا کہ نہیں  انکے بیک اپ پر کون موجود ہے انہیں کن ممالک کی سپورٹ موجود ہے یہ ایک الگ بحث طلب موضوع ہے۔


اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں  تازہ تازہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بحال ہوئے ہیں  اور وہ برکس تنظیم میں  شامل ہیں  روس یا چائنا بھی  بہت انتہا تک نہیں جانا چاہتے ہیں  کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے خود امریکہ کی خفیہ طاقتیں موجود ہیں  مگر یہ بات بھی  قرین قیاس نہیں  لگ آرہی ہے  


یوں لگتا ہے فلسطینی تنظیم پیغام دینا چاہ رہے ہے کہ اب تنگ آمد بجنگ آمد والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور جب جب جنگ  لازم ہو تو لشکر نہیں  دیکھے جاتے۔


بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ اسرائیل بہت شدید رد عمل دے گا  اور فلسطین کو نیست و نابود کر دے گا  مگر میں اس خیال سے متفق نہیں ہو پا رہا نجانے مجھے کیوں لگتا ہے اسرائیل کا رد عمل بہت زیادہ شدید نہیں  ہوگآ اور وہ اپنا انتقام کسی اور وقت کے لئیے اٹھا رکھے گا۔


دوسری طرف پاکستان میں  کیا چل رہا اسے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے وزیر خارجہ نے ایک رسمی سا بیان جاری کر دیا ہے جو کافی ہے ویسے بھی یہ اعزاز بھی  تو صرف  پاکستان کے پاس ہی ہے کہ اس کے پاسپورٹ پر تحریر موجود ہے کہ یہ اسرائیل جانے کے لئیے کارآمد نہیں  ہے۔


بعض جذباتی حلقوں کا خیال ہے کہ بحیثیت ایٹمی ملک ہم نے اس جنگ میں  کود جانا ہے اور اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دینی ہے  سوچنے کی حد تک بظاہر یہ اچھا لگتا ہے مگر عملی طور پر یہ ناقابلِ عمل ہے خدا کے بندوں پاکستان نے دنیا کا 57000 ارب روپے قرضہ دینا ہے عالمی دنیا نے مارنا کم ہے اور گھسٹنا زیادہ ہے ابھی تو آئ ایم ایف سے معاملات بہتر ہوئے ہیں  اور یہ اب  کو پتہ ہے کہ آئ ایم ایف کو کون چلاتا ہے


میدانِ جنگ میں  مقابلے وہی کرتے ہیں  جو اپنے پیروں پر کھڑے ہؤتے ہیں  اور وسائل رکھتے ہیں  ہمارے پاس تو سب  کچھ مانگے تانگے کا ہے ہماری کیا مجال کسی واقعہ کی مذمت یآ مزاحمت کر سکیں ۔


کمزور لوگوں کو لوگ کچل کر آگے بڑھ جاتے ہیں  جو ممالک اقتصادی طور پر مضبوط ہیں  انکا دفاع بھی  مضبوط ہوجاتا ہے قرضدار لوگ بڑی جنگجو کے متحمل نہیں  ہو سکتے ہیں   اخلاقی اور سفارتی حمایت ضرور کریں  مگر  موجودہ حالات بھی  مد نظر رکھیں ویسے  بھی  کوئ ایک واقعہ انتخابات کو منسوخی کی طرف لے کر جا سکتا ہے اور نام نہاد جمہوریت کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے