Breaking news

نوازشریف کی واپسی اور عام انتخابات

 



بالآخر  لندن سے وہ مریض بھی  واپس آگیا جو چار سال پہلے دوائی لینے گیا تھا یعنی کہ میاں نوازشریف صاحب  4 سال بعد خود ساختہ جلا وطنی ختم  کر کے واپس گیا جب سے  عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی کچھ سہولت کار میاں صاحب سے شہبازشریف اور اسحاق ڈار کے زریعے رابطے میں  تھے اور بیک ڈور ڈپلومیسی جاری تھی کیا یقین دھانی کروائی گئ کیا گارنٹیاں دی گئ ۔


بہرحال ڈیل یہ طے ہوئی کہ ڈھیل  دی جائے  اور واپسی کا رستہ ہموار کیا جائے  کوشش تو یہ کی گئی  کہ  بہت بڑا شو کیا جائے اور  سیاسی سطح یر ہلچل مچا دی جائے  مینار پاکستان یر جلسہ بھی  منعقد ہوگیا  لوگوں کی بڑی تعداد بھی  آگئی  مگر ن لیگ کو کوئ خاطرخواہ سیاسی کامیابی نہ مل سکی  لاہور شہر جو کہ کبھی  ن لیگ کا گڑھ تھا اس جلسے سے بالکل لا تعلق رہا مقامی لوگوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی گلگت بلتستان ہزارہ ڈویژن  اور کراچی سے لوگوں کی بڑی تعداد  کو لے کر جایا گیا  انکو دیہاڑیاں دی گئیں رہائش کا انتظام کیا گیا لاہور شہر کی سیر کروائی گئ یعنی پکنک  ییکیج تھا۔


مینار پاکستان یر ہونے والے ماضی کے سیاسی اجتماعات  کو دیکھا جائے تو اب تک کا سب سے بڑا سیاسی شو  23  دسمبر  2012 کو  ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کے استقبال میں  منعقد ہوا تھا جبکہ 11 اکتوبر کا عمران خان کا جلسہ بھی  شاندار تھا چار سال کے بعد  میاں صاحب آ تو گئے ہیں  مگر ابھی  تک وہ کنفیوژن کا شکار ہیں  وہ نگرانوں سے جو یقین دہانیاں چاہتے ہیں ابھی  تک وہ تشنہ ہیں  انکی سب سے بڑی خواہش ہے کہ عمران خان کو نا اہل کر دیا جائے  اور  اور انکی سیاسی جماعت تحریک انصاف یر مکمّل پابندی لگا دی جائے  تا کہ ن لیگ کے لئیے میدان بالکل صاف ھوجائے  اور وہ انتخابات میں  اپنی کامیابی یقینی بنا سکیں  ۔


آئندہ آنے والے دنوں میں  صورتحال مزید  واضح ہوگی سابق صدر زرداری صاحب  جو ن لیگ کے قریبی اتحادی تھے  وہ لگتا ہے مخالف کیمپ میں  چلے گئے ہیں  بلاول بھٹو نام لئیے بغیر  آئے دن  ن لیگ یر تنقید کرتے رہتے ھیں  اور سیکنڈ لائن قیادت کی طرف سے بھی   تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔


اگر جنوری کے آخر میں  انتخابات ہوجاتے ہیں  جسکے امکانات کم ہم تو سیاسی منظر نامہ یکسر بدل جائے گا 

آنے والے دنوں میں  عدالتی کاروائیاں عروج یر ہونگی   30 نومبر تک الیکشن کمیشن نے لازمی شیڈول کا اعلان کرنا ہے

مگر میاں صاحب کی کامیابی  خان صاحب کی نا اہلی سے مشروط ہے اور اگر خان صاحب نا اہل نہ ہوئے تو یھر انتخابات ملتوی ہونے کے امکانات بڑھ جائیں  گے 


دو تہائی اکثریت تو ملنا اب بہت مشکل ہوگیا ہے لگتا ہے معلق   پارلیمنٹ  وجود میں  آئے گی اور اتحادی حکومتیں وفاق اور صوبوں میں  قائم ہونگی ۔


اصل  میدان پنجاب میں  سجے انصاف استحکام  پارٹی جہانگیر ترین کی قیادت میں  کیا رنگ دکھائیں گے انکا مقابلہ کس سے ہوگا تحریک انصاف سے یا ن لیگ سے 

خیبرپختونخوا میں  مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جماعت کو کتنا حصہ ملے گ  اے این پی اور جماعت اسلامی  کی کی پوزیشن ہوگی  اندرون سندھ پیپلز  اور شہری سندھ میں  چوں چوں کا مربہ سامنے آئے گا۔بلوچستان میں جو باپ کے  ساتھ کھڑا ہوگا باقی  سب بھی اسکے ساتھ کھڑے ہونگے ۔حقیقت یہ ہے کہ میاں نوازشریف صاحب نے بڑا رسک لے لیا ہے  چوتھی بار وزیراعظم بننے کا سفر اتنا آسان ہونے  والا نہیں ہے خان صاحب  کے کیسز کا فیصلہ آنے تک صورتحال غیر  واضح رہے گی۔


محمد علی خان ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے