Breaking news

عظیم سفر جو معراج زیست تھا




 ہزاروں فٹ بلندی سے مسلسل لینڈ کرتی ہوئی ائیر بس میں سب کے سب  مسافر سراپائے ادب و نیاز بن  بیٹھے تھے۔ کیونکہ یہ زندگی کا اہم ترین سفر تھا۔جو عمر بھر کی دعاوں کی قبولیت کا مظہر تھا۔ جہاز نے اچانک دائیں طرف ٹرن لیا تو ساتھ ہی ائیر ہوسٹ کی آواز کانوں سے ٹکرائی معزز خواتین و حضرات ! آپکے الٹے ہاتھ کی سائیڈ پر حرم نبوی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ (سب مسافر بائیں ہاتھ کی کھڑکی سے رنگ و نور میں ڈوبے ہوئے منظر میں کھو گئے اور ائیر بس درود سلام سے گھونج اٹھی۔) دوبارہ آواز ابھری کہ ہم تھوڑی ہی دیر میں مدینہ منورہ ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں ۔ آج یکم رمضان المبار ک ہے مقامی وقت شام کے آٹھ بج چکے ہیں۔

 میری دائیں سیٹ پر میری آئیڈیل شخصیت استاد محترم  علامہ خالد حسین بھٹہ صاحب تشریف فرماتھے۔ فزکس اور ریاضی کے یہ ماہر استاد جنکی ساری زندگی بیسک سائنسز پڑھاتے اور نسل نو کے دلوں میں  ادب و عشق رسول کی دولت کے  چراغ جلاتے بسر ہوئی تھی۔  آج  ادب و عشق کے الگ رنگ میں دکھائی دے رہے تھے ۔ سیالکوٹ ائیر پورٹ سے مدینہ منورہ ائیر پورٹ تک شہر مدینہ کی فضیلت و ادب شہر مدینہ اور دور رسالت مآب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور صحابہ تک اور اپنے سابقہ سفر مدینہ کی روداد سب پر گفتگو فرماتے رہے۔ اس عظیم سفر میں انکا ساتھ میری خوش بختی تھی۔ 

جہاز مدینہ منورہ ائیر پورٹ پر لینڈ کر چکا تھااور ادھر ماہ رمضان المبارک کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔  سب سے پہلی نظر جس بورڈ پر پڑی اس پر عربی میں "مدینتہ الرسول" میں دنیا بھر سے آنے والے سراپائے عجز و نیاز زائرین کوخوش آمدید کہا گیا تھا۔ اسی بورڈ پر نظر جم گئی ۔ دل و روح کو سکون  آ چکا تھا۔ کیونکہ میں زندگی بھر سفر میں رہا ہوں ۔ جس شہر میں جاتا وہاں ضرور شہر کا تعارفی بورڈ نظر سے گزرتا۔ 

الحمد للہ مولا تیر ا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج تیری توفیق سے میں شہر رسول پاک میں ہوں۔ تیرے مصطفی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر مقدس میں ہوں۔ اس عظیم شہر کا تعارف یہ ہے کہ یہ رسول پاک کا شہر ہے۔ یہ قریہ نور ونکہت، جو مصطفی کریم کا دارالہجرت اور جائے سکونت ٹھہرا۔ جہاں گنبد خضراء ہے۔ خوشبوئیں جسکے طواف میں مصروف رہتی ہیں۔ ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو سلامی کے لیے آتے ہیں۔ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو مرکز عقیدت اور محور عشق ہے۔

دنیا کا عظیم ترین شہر جس کی فضیلت پر سب سے زیادہ کتابیں لکھی گئیں۔ جس شہر کی عظمت پر سب سے زیادہ قصیدے لکھے گئے۔ جس شہر کو رسول پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا۔  نبی آخرالزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شہرکے لیے شہر مکہ سے دوگنا برکت کی دعا فرمائی۔ جس شہر کے نام کا قرآن پاک میں چار مرتبہ اللہ پاک نے ذکر فرمایا۔ وہ شہر جس میں قرآن کا زیادہ حصہ نازل ہوا۔ جس شہر کی آب و ہوا میں برکت، جس شہر کی مٹی، پانی  اور کھجورں میں اللہ پاک نے شفا رکھی ہے۔ جس شہر کے ننانوے صفاتی نام ہیں۔ جس شہر مقدس کے باسیوں، پودوں ،جانوروں اور حشرات کو بھی تکلیف دینے کی ممانعت ہے۔ جہاں ہر طرف سکون،امن اور محبت ہے ۔ جہاں جینا بھی سعادت ہے اور مرنا بھی سعادت۔ 

آج بدھ کا دن گزر چکا تھا ۔ امگریشن کے معاملات سے فراغت کے بعد گاڑی شہر مدینہ کی سڑکوں پر عازم سفر ہو چکی تھی۔ 

تقریبا" 3000 سال قبل آباد ہونے والے اس مقدس شہر  کو طوفان نوح میں بچ جانے والے 80 افراد جہنوں نے بابل کے گرد پڑاو کیا تھا۔ ان میں سام بن نوح کی اولاد نے یہاں سکونت اختیار کر کے بسایا۔  یہ لوگ عمالیق کہلائے۔ حجاز سے شام و مصر تک انکی حکمرانی رہی۔ یہی لوگ اس خطے میں کھیتی باڑی کا آغاز کرنے والے تھے۔ بعد ازاں حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی مختلف جماعتوں کے ہمراہ جب ادائیگی حج سے واپسی پر اس خطہ سے گزرے تو بنی اسرائیل کے لوگ( یہود) تورات میں ذات النخل کی نشانیوں کی مشبابہت کے باعث جہاں نبی آخرلزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے تشریف لانا تھا یہاں آباد ہو گئے ۔  اسلام سے نو سو سال قبل یمن میں آنے والے تاریخی سیل عرم اور سیل فنا( دو سیلابوں ) کی تباہی کے باعث جو قبائل یہاں سکونت پذیر ہوئے ان میں اوس اور خزرج قبائل ہیں۔ جہنوں نے مدینہ میں سب سے پہلے اسلام کی دعوت قبول کی اور مہاجرین مسلمانوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے یہی بعد میں انصار کہلوائے۔

مدینہ منورہ بحیرہ احمر سے 250 کلو میٹر اور مکہ سے 497 کلو میٹر دور سطح سمندر سے 620 میٹر / 2030 فٹ بلندی پر 589 مربع کلو میٹر رقبہ پر مشتمل ہے جسکی آبادی تقریبا15 لاکھ سے زائد ہے۔

چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوئے کھجوروں کے شہر ، شہر مدینہ کے شمال مغرب میں جبل سلع، جنوب میں وادئ عتیق اور جبل عیر ، شمال میں جبل احد جسکی اونچائی 1077 میٹر/ 3533 فٹ ہے۔ جبل احد کے متعلق حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد سے"- مشر ق میں حرہ شرقیہ اور مغرب میں حرہ غربیہ ہے۔ترک دور تک شہر کے گرد ایک دیوار تھی جسے دیوار مدینہ کہا جاتا تھا۔ 

اب ہم شہر مدینہ پاک کی سڑکوں پر تھے ۔ دل سراپا ادب و نیاز تھا اور قسمت پر اللہ کا شکر بجا لا رہے تھے۔

الحمدللہ رب العالمین

والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم 


بقول ریاض حسین چوہدری 


چمن سے موسمِ دار و رسن ہوا رخصت

قدم قدم پہ چراغوں کا ایک میلہ ہے

ردائے شب کا تسلسل بکھرنے والا ہے

یہ آبِ خوف کا دریا اترنے والا ہے

بے کسی کا موسم گزرنے والا ہے

عجیب کیفِ مسلسل کا ایک عالم ہے

سب زخم سل رہے ہیں  روح کے

اتر رہا ہے منڈیروں پہ رتجگوں کا خمار

لپٹ رہی ہیں مرے بام و در سے خوشبوئیں


ہوائے شہرِ مدینہ گلاب لائی ہے

خزاں رسیدہ چمن میں بہار آئی ہے


بلال مصطفوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے