Breaking news

کوہ قاتل مرشد پربت


  قدرت کی ہیبت اور  جلال و جمال کا پیکر ، پہاڑوں کا بادشاہ سلامت یا مرشد پربت کہلانے والا یہ پہاڑ استور کی عالمی شہرت کی وجہ ہے۔ جسے مقامی لوگ دیامیر بھی کہتے ہیں۔  اس کی چوٹی پر برف نہیں ٹھہرتی یوں اس خالی چوٹی والے پہاڑ کا نام  نانگا پربت ہے۔ دیو مائی داستانوں کے مرکز محور نانگا پربت پر پریوں کی ملکہ رہتی ہے اور بہت سی پریاں اس کی حفاظت و خدمت پر معمور ہیں۔ اس لیے مقامی خواتین گہرے رنگ کے ملبوسات اور سنگھار سے پرہیز کرتی تھیں کہ پریاں ان سے جیلس نہ ہوں۔ ایسی کئی اور کہانیاں بھی اس سے منسوب ہیں 

8126 میٹر/ 26660 فٹ بلندی کا حامل نانگا پربت پاکستان کی دوسری جبکہ دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے۔ 8000 میٹر سے بلند دنیا کی 14 چوٹیوں میں سے ایک ہے مگر یہ ڈرامائی طور پر اپنے ارد گرد کے علاقوں سے بہت اوپر اٹھتی ہے جو اس ہیت کے لخاظ سے ماونٹ ایورسٹ کے بعد 100 بلند ترین پہاڑوں میں سے دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کی کوہ پیمائی انتہائی مشکل ہے۔یہ ماونٹینرز کو سخت چیلنجز پیش کرتا ہے۔ طویل کھڑی برفیلی ڈھلوانیں، چٹانوں کے مسلسل گرنے کے خطرات،غیر متوقع برفانی تودے اور دو تھرمل ذونز کی سرحد پر ہونے کی وجہ سے پرتشدد تیز برفیلی ہوائیں اضافی چیلنج ہوتی ہیں۔

برطانوی الپائن کوہ پیما البرٹ ایف ممری نے 1895 میں گلیشیئر اور برف سے ڈھکے نانگا پربت پر چڑھنے کی پہلی کوشش کی قیادت کی، لیکن وہ اس کوشش میں  ٹیم سمیت ہلاک ہو گئے۔

1937 میں ایک بار پھر دنیا کے مختلف ممالک کے 12 کوہ پیما اور 18 مقامی شیر پا اپنی کو شش میں مارے گئے تو اسکا نام Killer Mountain کوہ قاتل پڑھ گیا۔ جرمن ،اسٹریا اور جاپان کے کوہ پیما بار بار کوشش کرتے رہے اور کئی جان سے گئے۔ 1953 تک کم از کم 30 بڑے کوہ پیما جن میں زیادہ تر جرمن تھے شدید موسمی حالات اور بار بار برفانی تودے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ مگر جرمنوں اور جاپانیوں نے اسے چیلنج سمجھ لیا تھا۔

3 جولائی 1953 میں جرمن / آسٹریا کے ایک مشن نے گرمیوں میں اسے سر کیا تو ہرمن بوہل اسکے پہلے فاتح ٹھہرے ۔ اس کے بعد دنیا بھر کے کئی ماونٹینرز نے اسکو سر کیا۔ ابھی تک 22 خواتین سمیت 400 کوہ پیما اس چوٹی کو سر کر چکے ہیں ۔ جبکہ 83 کوہ پیما اپنی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

سردیوں کی مہمات میں سے سب سے پہلے سیمون مورو (اٹلی)، ایلکس ٹیکسیکون (اسپین) اور محمد علی سدپارہ (پاکستان) پر مشتمل ایک مہم 26 فروری 2016 کو چوٹی پر پہنچی، اس طرح نانگا پربت کی پہلی ونٹر مہم کامیاب ہوئی۔ 

1984 میں فرانسیسی کوہ پیما للیان بیرارڈ اپنے شوہر موریس بیرارڈ کے ساتھ نانگا پربت کو چڑھنے والی پہلی خاتون تھیں۔

جبکہ نائلہ کیانی اور ثمینہ بیگ نے2  جولائی 2023 کو حال ہی میں نانگا پربت کو سر کر کے پہلی پاکستانی خواتین فا تحین کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اسے مغربی ہمالیہ کی سائلینٹ بیوٹی بھی کہتے ہیں۔ یہ آوارہ گردوں کا عشق ہے۔ اسکو سر کرنے کی 40 روزہ مہم کی فیس آجکل 5290 ڈالر ہے۔


(بلال مصطفوی)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے