Breaking news

موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا استعمال اور ہمارا کردار ۔

 


پوری دنیا میں تقریبا اس وقت 64 فیصد کے قریب کے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں کچھ لوگ اس کو مجبوری کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگ ڈیوٹی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، 


کچھ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال غلط کاموں کے لیے کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ انٹرنیٹ کو ٹائم پاس کے طور پر استعمال کرتے ہیں ہمیں دیکھنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے جہاں دنیا کا عارضی نظام وسیع پیمانے پر چل رہا ہے وہی اس سے ایک عام آدمی کیا حاصل کر رہا اور کیا نقصان اٹھا رہا ہے


 عام آدمی جو انٹرنیٹ کو مجبوری کے طور پر استعمال کرتا ہے وہ اپنی مجبوری کی حد تک سب جانتا ہے لیکن مجبوری سے ہٹ کر اس کو کچھ علم نہیں کہ انٹرنیٹ کیا چیز ہے اس کے برعکس جو وقت گزاری کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے وہ اصل انٹرنیٹ کا حدف ہے انٹرنیٹ اس کو آہستہ آہستہ اپنی رنگینیوں کی طرف کھینچتا ہے اور کھینچتے کھینچتے برائیوں کی طرف دھکیلتا ہے۔


 آج ہم سنتے ہیں کہ پاکستانی کتنے فیصد غلط کانٹینٹ دیکھتے ہیں انڈین کتنے فیصد دیکھتے ہیں بنگلہ دیش کے لوگ کتنے فیصد دیکھتے ہیں اور تقریبا یہ ممالک ہمیشہ ٹاپ ٹین میں رہتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان ممالک کے لوگ سب سے زیادہ وقت گزاری کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں یہ ایک عارضی تعارف تھا کہ ہمارے لوگ ہی ہمیشہ اس فہرست میں ٹاپ میں کیوں ہوتے ہیں پھر اس کے اندر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم آ جاتے ہیں جو دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں


 جو اپلیکیشن نئی آتی ہے وہ اس چیز پر تحقیق کرتی ہے کہ وہ عوام کو کس طریقے سے زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ اٹیچ رکھ سکتی ہے آپ آج کل دوستوں کو یہ کہتے ہیں سنتے ہوں گے کہ ٹک ٹاک کھولی اور وقت کا پتا ہی نہیں چلا رات کو دو بج گئے مطلب کہ اپلیکیشن نے سب سے پہلے اس چیز کو مدنظر رکھا کہ استعمال کرنے والا بندہ اتنا اس میں کھو جائے کہ وقت کا پتا ہی نہ چلے اور ہاں جو بندہ جو چیز پسند کرتا ہے وہ ہی اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور پہلی اپلیکیشن بھی اپنے اپنے وقت میں ایسے ہی ہوتی تھی اور وقت اور عوام کے مائنڈ کے ساتھ ساتھ اپڈیٹ ہوتی جا رہی ہیں


 اب آپ دیہات میں کسی ڈیرے پر چلے جائیں وہاں چاچا جی موبائل پکڑے فیس بک کو اوپر نیچے کر رہے ہوں گے جیسے کوئی چیز ڈھونڈ رہے ہوں مطلب ہر کوئی اس میں انٹرنیٹ کی قید میں ہے یہاں کہ سکول، کالج میں پڑھائی کے دوران اکثر بجے فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام وغیرہ پر دوران لیکچر ٹائم پاس کرتے  ہیں اس کے بعد ہمیں سوشل میڈیا پر اتنا الجھایا گیا ہے کہ ہم سارا سارا دن بحث کرتے گزار دیتے ہیں کوئی سیاسی پارٹی کو لے کر بحث لے کر بیٹھا ہوا تو کوئی نا کوئی مذہبی حوالے سے پوسٹیں اور کمنٹ میں لڑائی کر رہا ہوتا ہے ۔


اگر سوشل میڈیا کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جائے تو ہم سمجھیں گے جتنا فارغ پاکستانی قوم ہے شائد ہی کوئی اور قوم ہو کیونکہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر سارا سارا دن بحث کرتے ہیں کوئی عمران خان بنا ہوتا ہے تو کوئی زرداری کی صفائیاں پیش کر رہا ہوتا ہے کوئی مولانا کو درست ثابت کر رہا ہوتا ہے تو نواز شریف کو شریف ثابت کرنے پر تلا ہوا نظر آتا ہے اور سب کے سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی اس بحث سے کوئی آج تک بدلہ ہے۔



فیس بک پر ایک ایسا بھی طبقہ فیس بک پیجز والا ہے یہاں میں صرف ان پیجز کی بات کر رہا ہوں جو کہ کسی جگہ کی نمائندگی کرتے ہیں جیسا کہ گاؤں کے نام سے فیس بک پیج بنتے ہیں اور اگر سمجھا جائے تو آپ صرف یہ ایک فیس بک پیج ہی نہیں بنا رہے بلکہ آپ ایک ذمہ داری اپنے اوپر لے رہے ہیں پچھلے مہینے ایک بابا جی کی تصویر فیس بک پر آئی کہ یہ نام بتا رہے ہیں اور فلاں گاؤں بتا رہے ہیں تو میں نے جیسے ہی تصویر دیکھی تو جو گاؤں کا نام بتایا گیا اس نام کے پیج سرچ کئے چند پیجز سامنے آئے تو میں نے ان کو میسج کیا اور جنہوں نے واٹس ایپ ایڈ کیا ہوا تھا پیج کے ساتھ ان کو واٹس ایپ میسج کیا کہ ان بابا جی کا پتا کروائیں آپ کے گاؤں کا نام بتا رہے ہیں ایک بھائی کا جواب آیا کہ میں پتا کرواتا ہوں  جبکہ باقی سب کا کوئی جواب نہ آیا چند دن بعد انہی بابا جی کی تصویر میڈیا گروپس میں آئی کہ پھالیہ میں ان کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو مجھے بہت دکھ ہوا اور اس سے تقریبا دو تین دن بعد ایک پیج ایڈمن کی طرف سے جواب آیا کہ بھائی میں اس گاؤں کا ہی نہیں ہوں جس کا پیج بنایا ہوا ہے حالانکہ میں کہتا ہوں اگر آپ نے کوئی پوسٹ دیکھی جس میں گاؤں مینشن ہے اور اگر آپکی کوئی جان پہچان ہے وہاں تو کسی سے رابطہ ضرور کریں شائد اسی سے کسی کی جان بچ جائے یا کسی کا پیارا ان سے مل جائے ۔



اب کچھ دنوں سے تلاش گمشدہ کی پوسٹیں وائرل ہو رہی ہیں ہم پوسٹس کو شیئر کر کے سمجھتے ہیں ہم نے اپنا کام کر دیا اگر پوسٹ دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایک فیصد بھی میرے کچھ کرنے سے اس کا فائدہ ہوتا ہے تو پریکٹیکلی کریں اسی طرح کوئی کسی کو مار رہا ہے کسی پر ظلم ہو رہا اور کوئی پوسٹ پولیس کو دکھانے والی ہے اس میں پولیس کے آفیشل اکاؤنٹس مینشن کریں اور کمنٹ میں بھی "بہت ظلم ہوا بہت ظلم ہوا" کے کمنٹ کرنے سے ظلم کم نہیں ہوتا اس طرح اگر آپ ٹائم پاس کے لیے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں تو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی وجہ سے آپ کسی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔


عدنان اکبر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے