Breaking news

عوام کی خوشحالی یا حکمرانوں کی  نسلوں  کا  تحفظ ۔

 


ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز کا اپنے والد، سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق کہنا ہے کہ 21 اکتوبر کو پاکستان کی خوش حالی واپس آ رہی ہے۔


چیف آرگنائزر مریم نواز کی زیرِ صدارت ن لیگ اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔


اجلاس میں مسیحی، سکھ اور ہندو برادری کے نمائندوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف عوام اور ملک کو مشکلات سے نکالنے آ رہے ہیں، 21 اکتوبر کو پاکستان کے اچھے دِن واپس آ رہے ہیں، اِن شاء اللّٰہ 21 اکتوبر کو مہنگائی میں کمی واپس آ رہی ہے۔


مریم نواز کا کہنا تھا کہ 2013ء سے 2018ء تک نوازشریف دور میں مہنگائی کنٹرول میں رہی، نوازشریف کو نکالا تو ملک سے ترقی اور خوش حالی بھی نکل گئی۔


انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو اقتدار سے نکالا تو ملک سے امن و سکون بھی نکل گیا۔


مریم نواز کا کہنا ہے کہ تحریکِ پاکستان میں اقلیتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، آج پاکستان کی اقلیتوں کے خوبصورت رنگ یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، کوئی اقلیت کوئی اکثریت نہیں، ہم سب پاکستانی ہیں۔


مریم نواز کی یہ خوشخبری سن کر کے نوازشریف کی واپسی کے ساتھ خوشحالی واپس آرہی ہے یقین جانئیے کے دل باغ باغ ھوگیا ۔


بس ہمیں کوئ اک بار یہ سمجھا دے  جب جب اقتدار سے محرومی ہوئی ہے میاں نوازشریف صاحب سعودی عرب یا لندن کیوں چلے جاتے ہیں  کیا اپوزیشن میں  رہ کر  وطنِ عزیز کی خوشحالی کے لئیے کام کرنا منع ہے علاج کے نام پر پانچ سال سہ قیام پذیر  سابق وزیراعظم صاحب سے قوم یوچھنا  چاہتی ہے کہ ہمیں سمجھائیں کہ یہ خوشحالی کس بلا کا نام ہے کیا یہ ایون فیلڈ کے فلیٹوں میں قیام پذیر آپکی نسلوں کے تحفظ کا نام ہے عوام کے حقوق کی بات کرنے والے عوام کے درمیان کیوں نہیں  رہنا چاہتے کسی مقدمہ میں جیل جانا پڑ جائے تو آپ کو مچھر کاٹتے ہیں  اور آپ اندرونِ خانہ ڈیل کر کے بیرون ملک  لندن کی پرواز پکڑ لیتے ہیں  اور آپکے ساتھ قید سید غوث علیشاں جیس سینئر رہنما آپ سے یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں  کہ اتنے بڑے جہاز میں  کیآ انکے لئیے ایک بھی سیٹ دستیاب نہیں  تھی۔


پہلے میاں صاحب 1990 میں وزیراعظم بنے پھر 1997ؓ میں وزیراعظم رہے پھر 2013 میں وزیراعظم بنے اور اب چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئیے پر تول رہے ہیں المیہ تو پہ ہے کہ میاں  نوازشریف  صاحب کوئ ایک ایسا ہاسپٹل بھی نہیں  بنا سکے جہاں انکے پلیٹیلیٹس  کنٹرول کئیے جا سکیں 


عوام کی خوشحالی کا تو نہیں پتہ میاں صاحب کی اور انکی نسلوں کی خوشحالی عمران خان کی نااہلی سے مشروط ہے  اگر خان صاحب اور انکی جماعت کو الیکشن میں  حصہ لینے دیا گیا جسکے بظاہر  امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں  اور کہانی کسی بھی کیس میں  نا اہلی تک جا سکتے ہیں   ۔


عوام کی خوشحالی عوام کو ریلیف دینے سے آئیں جب تک عوام کی جمہوریت میں ریاست میں  حقیقی نمائندگی نہیں ہوگی کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی کی امید رکھنا ما سوائے خام خیالی کے اور کچھ بھی نہ ہوگا  نگران حکومت کا کام الیکشن کروانا ہے اور وہ الیکشن کروانے کے علاوہ باقی سارے کام کرنا چاہ رہی ہے ۔


کمپنی سرکاری ہو یا سیاسی جماعتیں جب تک ایک پیج پر نو آئیں گی تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری رہے گا اور خوشحالی کے نام پر  عوام بے وقوف بنتے رہیں گے لٹتے رہیں گے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے