Breaking news

غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن اور عام انتخابات

 


 ایک خبرکے مطابق گراں وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ پہلی نومبر کے بعد غیرقانونی غیرملکیوں کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی، گرفتاریاں شروع جائیں گی، پاکستان واحد ملک ہے جہاں غیرملکی افراد پاسپورٹ کے بغیر بھی آجاتے ہیں، پہلی نومبر سے ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر کوئی پاکستان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔


ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو یکم نومبر کی ڈیڈ لائن دی ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کے اجرا میں بہت بے ضابطگیاں تھیں، پاکستان میں اس وقت افغان شہریوں کی تعداد 44 لاکھ کے قریب ہے، 44 لاکھ میں سے 14 لاکھ کے قریب افغان شہری رجسٹرڈ ہیں، یکم نومبر کے بعد غیر قانونی مقیم افراد کی گرفتاری کے اقدامات کریں گے۔


ملک میں  اس وقت جو امن امو امان کی صورتحال ہے اس میں یہ ایک  بڑی پیش رفت ثابت ہوگی کیونکہ پاکستان میں دہشتگردی کا براہِ راست تعلق  غیر قانونی طور پر مقیم افغانستان کے مہاجرین سے جڑا ہوا ہے  اور ماضی  80 کی دہائی سے لے کر 2023 تک 42  سال کا طویل سفر ہے  اس  وقت بھی  پاکستان میں  44 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین موجود ہیں  جن میں  سے صرف 14 لاکھ کے پاس  قانونی دستاویزات موجود ہیں   بظاہر بیانات میں  آسان نظر آنے والا مسئلہ اتنا آسان بھی نہیں ہے دہشتگردوں کا کھرا کالعدم تنظیم سب کا سب  افغانستان میں ہی جارہا ہے اور وہاں کی موجودہ حکومت کے کالعدم  تنظیم کے لوگوں سے دوستانہ تعلقات موجود ہیں  اور آج تک کوئی بڑی کاروائی نہیں کی گئ ہے جس طرح افغانستان کے معاملات میں کسی کو مداخلت نہیں  کرنی چاہیے  اسی طرح پاکستان میں  دہشتگردی کو فروغ دینے  میں افغانستان کی سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہوگا۔ اس حوالے سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا کردار بھی  نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ماضی میں  کلبھوشن یادیو کا نیٹورک اسکی بڑی مثال ہے


30 لاکھ غیر قانونی افراد ایک بہت بڑی تعداد ہے  کتنے افراد کو افغانستان بھیجنا ممکن ہے کتنے لوگوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں  رکھا جا سکتا ہے اس حوالے سے کیا قانون سازی موجود ہے عالمی برادری کا کیا رد عمل ہوگا  خود افغانستان کیا رد عمل دے گا  اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں  خیبرپختونخوا کراچی اور بلوچستان میں سے  امن و امان کی صورتحال بگڑ سکتی کالعدم تنظیم مزید کاروائیاں کر سکتی ہیں  نگران  حکومت کے اس آپریشن کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مکمّل حمایت حاصل ہے مگر کیا نگران حکومت کا ڈومین ہے کہ وہ ایک ایسے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرے جو اتنا آسان نہیں ہے  اور لگتا یہ ہے کہ یہ معاملات انتخابات کی منسوخی تک جا سکتے ہیں 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ تیس لاکھ غیر قانونی لوگوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی انہیں مشتعل کرے گی  اور وہ رد عمل پر اتر آئیں گے  مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملے گا اور بعض قوم یرست حلقے اسے پختونوں کے خلاف کاروائی قرار دیں گے اسکے لئیے  سیکورٹی فورسز کی بہت بڑی تعداد اور وسائل درکار ہونگے  جبکہ دوسری طرف عام انتخابات بھی جنوری کے آخری ہفتے میں  کروانے کا اعلان کر دیا گیس ہے


بات سمجھنے اور سمجھانے کی اتنی ہے کہ بظاہر یہ لگتا ہے  انتخابات وقت مقررہ یر نہ ہوسکیں  ہاں اگر یہ آپریشن رسمی بیانات تک محدود رہا تو پھر کچھ امکان  ظاہر کیا جا سکتا ہے۔


دوسری طرف میاں نوازشریف صاحب کی 21  اکتوبر کو پاکستان واپسی بھی  ابہام کا شکار ہے جب تک وہ پاکستانی عدالتوں سے قانونی طور یر کلئیرنس حاصل نہیں کر لیں گے وہ پاکستان کی طرف اڑان نہیں  بھریں گے۔


فی الحال پاکستانی سیاست کے افق پر انتخابات کا سورج طلوع ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے  یکم نومبر کے بعد غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کس نوعیت کا آپریشن کیا جاتا ہے اسکے بعد ہی سیاسی صورتحال  واضح ہو سکے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے