Breaking news

نکاح آسان کرو

 

۔پاکستانی قوم کی مذہب سے محبت سب سے جدا ہے منفرد ہے یہ جس بات سے عقیدت رکھتے ہیں  اسے پھر عقیدہ بنا لیتے ہیں  اور اختلاف رائے برداشت کرنے کے قائل نہیں  ہیں اپنے سوا سب کو غلط  سمجھنا انکا طرہ  امتیاز ہے۔


مگر پاکستان کے عوام کی اکثریت پر جو چھاپ مذہبی جماعتوں کی اور انکے رہنمائوں کی ہے اس کی مثال کسی اور شعبہ زندگی میں  نہیں  ملے گی  پاکستان میں  تبلیغی جماعت دعوت اسلامی منہاج القرآن   سنی جماعت  جماعت رضویہ   نورانی گروپ  فضل الرحمٰن گروپ  اہلحدیث اہل تشیع  یہ اور ان جیسی بیشمار جماعتیں عوام میں  اپنی گہری چھاپ رکھتی ہے  ان جماعتوں کے مرکزی رہنما جو کہہ دیں  وہ انکے فالورز کے لئیے  حرف  آخر ہوتا ہے ۔


اور مختلف پروگرام کے زریعے یہ جماعتیں اپنا منشور عوام الناس تک پہنچاتی رہتی ہیں   اس میں  بہت سی جماعتیں اپنے ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اجتماعی شادیاں بھائی کرواتی ہیں   پڑھنے  والے کے ذہن میں  یقیناً خیال آیا  ہوگا کہ صرد مذہبی جماعتوں کا ذکر ہی کیوں ہے باقی  شعبہ زندگی کیوں کر اس بار سے مستثنیٰ ہیں  اصل میں مذہبی جماعتوں سے جو عقیدت کارکنان کی ہوتی ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ  عقیدہ بن جاتی ہے ۔


المیہ یہ ہی کہ اس وقت ملک پاکستان میں  لاکھوں لڑکیاں اور لڑکے بھی  کنوارے بیٹھے ہیں  کیونکہ جہیز کی فرمائش اور  زات برادری کی پابندیاں اور ہندوانہ رسم و رواج نے حقیقتاً زنا کو آسان  اور نکاح کو مشکل ہی کیا ناممکن بنا دیا ہے  اپنے آس پاس فیملی میں  عزیز و اقارب میں  دوستوں میں  محلے دار پڑوسیوں میں  اک نظر دوڑائ بیشمار گھرانے نظر آجائیں گے جہاں بچیوں کے بالوں میں  چاندی آگئ ہے جہاں  نوجوان ادھیڑ عمر کی طرف جارہے ہیں  18 سے 22 سال  شادی کے لئے ایک آئڈیل عمر ہے جہاں نسل نو کے لئیے بھی  آسانی ہے اور خاندان کا معاشی تحفظ بھی ہے وہیں جسم و جاں کے فطری تقاضے بھی  ہیں ۔


ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ اولاد کی سیکس ایجوکیشن کا کوئی تصور نہیں  ہے آسے بلوغت کے معاملات سمجھانے والا نہیں  ہے جو باتیں پہلے سلیبس کا حصہ  تھیں  اسے شرم و حیا کے نام پر زباں بندی کردی گئ ہے  جسکا  نتیجہ  سوشل میڈیا  سے حاصل کردہ معلومات تک محدود رہے گا  اور وہ اپنی فطری جسمانی تسکین کے لئیے  وہ رستے اختیار کرے گا جس سے اسکے مسائل مزید بڑھ جائیں گے اور وہ جسمانی و نفسیاتی امراض کا شکار ہوجائے گا۔


لڑکوں کی شادیاں بھی  پینتیس چالیس سال کی عمر میں  کی جارہی ہیں  کیونکہ  اسٹییٹس اسٹیبلش کرنا پہلی ترجیح بن گیا ہے  نمود و نمائش سب سے زیادہ ضروری کام ہے باقی تمام ضروری معاملات پس پردہ  چلے گئے  ہیں  جہیز کی ڈیمانڈ اور لڑکے کی سرکاری جاب یا مالی طور پر خوشحال ہونا لڑکی کے نام  گھر یا زیورات لکھوانا عام سی بات ہوگئی ہے سوال یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں کے اجتماعات کرنے والی مذہبی و دینی جماعتیں ان قبیح رسومات کے خاتمے کے لئیے  کیا عملی اقدامات کر رہی ہیں   ضرورت مند افراد کی اجتماعی شادیاں یقیناً قابلِ تعریف عمل ہے مگر بات  اب بہت آگے جا چکی ہے فی زمانہ نکاح مشکل اور زنا آسان ہو چکا ہے لوگوں نے بھی  اس بات پر خاموشی اختیار کر لی ہے مرکزی قائدین کو چاہیے کے گراس روٹ لیول تک  اپنے کارکنانِ کو اس حوالے سے تربیت دیں متحرک کریں  اور نکاح آسان تحریک کو اپنے منشور کا نمایاں حصہ بنائیں  اور دین کا حقیقی فہم بلا زبان  و مسلک کی تقسیم کے لوگوں تک پہنچائیں  دوسری طرف المیہ یہ کہ بر صغیر پاک و ہند میں  دوسری شادی کو گناہ عظیم سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر شوہر  کہیں  اور ناجائز تعلقات رکھتا ہے تو پہلی بیوی خاموش رہے گی نظر انداز کر لے گی برداشت کر لے گی مگر اگر وہپ شوہر حلال طریقہ سے دوسرا نکاح کر لے تو اسکا جینا حرام کر دے گی اگر ہم نکاح کو آسان نہیں  کریں گے دوسری شادی کو جائز نہیں  سمجھیں گے تو کام چلتا رہے گا ڈیٹنگ سائیٹ آباد  رہیں گی۔


محمد علی خان ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے