Breaking news

َاعتدال اور طبیعت کی لچک کا حقیقی اسلوب کیا ہے

 


اعتدال اور طبیعت کی لچک

عام زندگی میں ایسے بیشمار جملے سننے کو ملتے ہیں کہ اعتدال سے کام لو طبیعت میں لچک پیدا کرو بظاہر دونوں الگ جملے ہیں مگر ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں  

اعتدال کا مطلب ہے درمیانی رستہ جیسے کسی سڑک پر حد رفتار 100 کلومیٹر یر گھنٹہ ہے اور آپ 150 کلومیٹر پر گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل ڈرائیونگ کریں گے تو نتیجہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ آپ نے اعتدال یعنی درمیانی رستہ چھوڑ کر انتہا پسندی یعنی تیز رفتاری کا انتخاب کیا جسکے منفی نتائج بھگتنا پھر واجب ہوجاتا ہے


اور یہ فارمولا زندگی میں ہر شعبہ پر اطلاق کرتا ہے کہ اللہ اور اس خے رسو کریم ﷺ نے زندگی گزارنے کے جو پیمانے اور حدود مقرر کر دی ہیں ہم جس مرحلے پر اسکی خلاف ورزی کریں گے ہمیں منفی حالات کا سامنا ہوگا 

چاہے وہ ٹریفک کے حادثات ہوں یا زندگی کے معاملات مسائل بڑھتے ہی جاتے ہیں  


دین کا فہم بھی یہی ہے اعتدال کے ساتھ عبادات کا حکم یہ نہیں کہ 24 گھنٹے نفل ہی پڑھنا ہے روزے سال میں ایک بار ایک مہینے کے لئیے نہ کے سارا سال یا چھ ماہ کے روزے رکھنے ہیں 


اسی طرح کھانا پینا ملنا ملانا ہر چیز اعتدال میں رہے گی تو آپ صحت مندانہ زندگی گزاریں گے سادہ سا فارمولا یہ ہے کہ نہ ہی کسی کے معاملات میں مداخلت کریں نہ کسی اور کو یہ حع دیں کہ وہ آپ کے معاملات میں مداخلت کرے

ںہ کسی کے عقیدے کو چھیڑیں نہ اپنے عقائد سے دستبردار ہوں ساتھ جہاں جتنا خرچ کرنا ضروری ہو اتنا ہی خرچ کریں۔اگر ہم کئی راتوں کے جاگے ہوں تو جسمانی تھکاوٹ اور سستی کی وجہ سے کوئی کام ڈھنگ سےنہیں کیا جاتا۔لہذا نیند کے معاملے میں بھی میانہ روی سے کام لینا چاہیے ،ایسا بھی نہ ہو کہ دن رات سونے کے علاوہ کوئی کام نہ کریں اور نہ ایسا ہو کہ دن رات جاگ کر اپنے اوپر ظلم کریں بلکہ طبی نقطہ نظر پر عمل کرتے ہوئے جس عمر کے افراد کے لیے جتنے گھنٹے کی نیند ضروری ہے اسے پورا کریں۔کیونکہ نیند پوری نہیں ہوگی تو ملازم آفس میں کام نہیں کر سکے گا،اسٹوڈنٹ ٹیچر کی بات سمجھنے سے قاصر رہے گااور طبیعت میں چڑچڑا پن،غصہ جیسی بری عادات پیدا ہوجائیں گی جو کہ اخلاقی اعتبار سے درست نہیں ہیے


یہی حال فضول خرچ اور کنجوس شخص کا بھی ہے ہر کسی کے مالی حالات مختلف ہوتے ہیں ہر ایک کو اپنی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے،جس کے پاس جتنا پیسہ ہوتا ہے وہ اپنے معاملات میں اسی اعتبار سے خرچ کرتا ہے۔اسلام نے جس طرح مال کمانے کے احکام بیان فرمائے ہیں ایسے ہی مال خرچ کرنے کے آداب بتا کر اس میں میانہ روی کا حکم دیا ہے۔مال خرچ کرنے میں میانہ روی اسلام کے نزدیک اچھا عمل ہے جب کہ فضول خرچی اور کنجوسی برے اوصاف ہیں جو ایک مسلمان کی شان کے لائق نہیں،قرآن مجید نے مومن کی یہ شان بتائی ہے: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں،نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔ اگلی بات ہم طبیعت کی لچک کی کریں گے


لچک سے مراد نرمی لیجاتی ہے لچکدار شخص زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتا ہے وہ کہیں بھی ایڈجسٹ ہوجاتا ہے اسپرنگ یا میٹرس اسکی بہترین مثال ہے اگر آپ سخت جگہ زمین پر سوتے ہیں اور دوسرا شخص نرم میٹرس کا استعمال کرتا ہے تو دونوں کی کیفیات مختلف ہونگی ایک اضطراب کا شکار ہوگا تو دوسرا پرسکون نیند کے مزے اڑا رہا ہوگا۔

اسی طرح ایک کھیل میں ایک لچکدار بانس کی مدد سے بلندی کو عبور کیا جاتا ہے اس میں کھلاڑی کی محنت کے ساتھ ساتھ اہم کردار بانس کی لچک کا ہوتا ہے جس میں وہ آپ کو اوپر اٹھا کر اک بار نیچے لاتا ہے اور پھر پوری قوت سے واپس بلندیوں کی جانب گامزن کر دیتا ہے

اسی طرح زندگی کے معاملات میں ہماری طبیعت میں برداشت ہوگی رویے لچکدار ہونگے تو ممکن ہے ایک بار ہم اوپر نیچے ہوں مگر یقین جانیں آپ پوری طاقت سے بلندیوں کا سفر کرتے ہیں اور کسی بھی موقف یر بلاوجہ اڑ جانے والے انتہا یسندانہ مزاج رکھنے والے آپ کو سر اونچا کر کے دیکھنے یر مجبور ہوجاتے ہیں 


لچکدار رویہ اپکی شخصیت کو مضبوط اور دوسروں کے قابلِ بھروسہ اور نفع بخش بناتا ہے اور کامیابیوں کے نئے دریچے کھولتا ہے۔


علی سالار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے